مواد پر جائیں

بم اور میزائل ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے: صدر پزشکیان

دی وائس آف امہ: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ بم اور میزائل کسی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے، تاہم اگر ملک اندرونی طور پر تقسیم ہو گیا تو دشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ جارحیت اور ناکہ بندی کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کو جھکانے میں ناکامی کے بعد ایران کے خلاف دھمکی آمیز بیانات میں اضافہ کر رہا ہے۔

پریس ٹی وی کے مطابق صدر پزشکیان نے جمعرات کو قومی یومِ نرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "بم اور میزائل کسی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے، لیکن اگر ہم اندرونی طور پر تقسیم ہو گئے تو دشمن اپنا ہدف حاصل کر لے گا۔” انہوں نے دشمن کی ان سازشوں سے خبردار کیا جن کا مقصد اندرونی اختلافات اور موجودہ مسائل سے فائدہ اٹھا کر ملک کی طاقت اور اتحاد کو کمزور کرنا ہے۔

صدر پزشکیان: عوام کی استقامت نے دشمن کے اندازے غلط ثابت کیے

ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام نے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے، جو نقل و حمل اور مواصلاتی راستوں پر پابندیوں سمیت مختلف ذرائع سے ملک پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "دشمن سمجھتا تھا کہ بجلی، پانی اور گیس کی قلت، ایندھن کے مسائل، ماحولیاتی چیلنجز، بینکاری مشکلات، بجٹ خسارہ اور پنشن فنڈز کے مسائل ایرانی معاشرے کو تقسیم کر دیں گے، لیکن عوام کی استقامت اور یکجہتی نے ان توقعات کو غلط ثابت کر دیا۔”

صدر پزشکیان نے ایرانی نرسوں اور دیگر طبی عملے کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور ان لوگوں کو بھی سراہا جو انتہائی مشکل حالات میں ملک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ڈٹے رہے۔ ایک سینئر ایرانی محکمۂ صحت کے عہدیدار کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی دو جارحانہ جنگوں میں کم از کم 16 نرسیں شہید ہوئیں۔ صدر نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے الفاظ یا اقدامات سے گریز کریں جو قومی اتحاد کو نقصان پہنچائیں اور عوامی اعتماد کی مضبوطی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔

جارحیت کا پس منظر

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ شروع کی تھی۔ چالیس دن بعد، 8 اپریل کو، ایران کی مزاحمت اور کامیاب جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں جارحین جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔ پریس ٹی وی کے مطابق جولائی میں امریکہ نے 17 جون کو طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر مہلک فضائی حملے کیے اور بحری ناکہ بندی مسلط کر دی، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب صدر پزشکیان جمعہ کو حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے فریقین کی 17ویں کانفرنس میں شرکت کے لیے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان پہنچ گئے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ دورہ مختصر ہوگا اور ایران امریکی و اسرائیلی جارحیت سے خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو دستاویزی شکل دینے اور بیان کرنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گا۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز ایرانی حقوق تسلیم ہونے تک بند رہے گی: جنرل حاتمی

About The Author