دی وائس آف امہ: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب کمانڈر انچیف میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج خشکی، سمندر اور فضا میں کسی بھی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے ملک پر حملہ کیا تو ایرانی افواج آخر تک ڈٹی رہیں گی، جارحین کو پیچھے دھکیلیں گی اور ایرانی سرزمین کا ایک انچ بھی ان کے قبضے میں نہیں جانے دیں گی۔
پریس ٹی وی کے مطابق جنرل ایزدی نے جمعرات کو 1980 میں شروع ہونے والی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ یعنی دفاعِ مقدس کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا: "آج بھی ہم مجرم امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کے مقابلے میں کھڑے ہیں، اور دفاعِ مقدس کی طرح اسلام کے مجاہدوں کی قربانی اور مزاحمت کے ذریعے اپنے عزیز وطن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دیں گے۔”
سپاہ پاسداران: ہر محاذ پر مضبوط دفاعی صف
سپاہ پاسداران کے نائب سربراہ نے کہا کہ ملک بھر میں خشکی، سمندر، فضا، فضائی دفاع اور سکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں ایک مضبوط دفاعی محاذ قائم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن متزلزل پوزیشن میں ہے اور اس حقیقت کو چھپانے کے لیے بار بار نئے دعوے کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا: "جس طرح دشمن کو ماضی کی جنگوں میں شکست ہوئی، اسی طرح اس کی کوئی بھی معاندانہ حرکت، چاہے کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، ایک بار پھر اس کی ناکامی پر منتج ہوگی۔”
جنرل ایزدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران محورِ مقاومت کے ساتھ کھڑے ہو کر آخر تک الٰہی اقدار، عدل اور حق کے دفاع اور خطے و دنیا کے مظلوموں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔
"امریکہ عراق میں بھی افغانستان کی طرح ناکام ہوا”
عراق کی بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراقی عوام وہی ہیں جنہوں نے بزرگ علمائے دین کی قیادت میں انگریزوں کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔ ان کے بقول جس طرح امریکی افغانستان سے عجلت میں فرار ہوئے، اسی طرح کی صورتحال کا سامنا انہیں عراق میں بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراقی عوام اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے اپنے ملک اور اقدار کی حفاظت کریں گے۔ پریس ٹی وی کے مطابق یہ بیان 30 ستمبر کو عراق میں امریکہ کی طویل فوجی موجودگی کے باضابطہ اختتام کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
دفاعِ مقدس کے تجربہ کار کمانڈر جنرل ایزدی کو رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اگست 2026 میں سپاہ کا نائب کمانڈر انچیف مقرر کیا تھا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے 8 اکتوبر کو جنوبی ساحلوں اور جزائر پر تعینات سپاہ کی بری فوج کے اہلکاروں کے دورے میں کہا تھا کہ سپاہ کی بری فوج، بحریہ اور ایرو اسپیس فورس آبنائے ہرمز کے شمال میں واقع جزائر اور علاقوں میں موجود ہیں اور اس اسٹریٹجک خطے کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ اسی دوران ایرانی فوج کی بری فورس نے بھی کہا ہے کہ فوج کی جنگی تیاری نے دشمن کی کسی بھی زمینی جارحیت کو "ناقابلِ حصول خواب” بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز ایرانی حقوق تسلیم ہونے تک بند رہے گی: جنرل حاتمی




