دی وائس آف امہ : ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں "غیر قانونی راستے” سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک بڑے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق یہ بیان جمعہ کے روز جاری کیا گیا۔
انجن روم اور پروپلشن سسٹم میں آگ
سپاہ کی بحریہ کے بیان کے مطابق "این وی سن شائن” نامی یہ بڑا ایل پی جی بردار جہاز، جس کی ملکیت "نہات ویت” نامی کمپنی کے پاس ہے، آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر مجاز راستہ عبور کرنے کی کوشش کے دوران نشانہ بنا، جس سے اس کے انجن روم اور پروپلشن سسٹم میں بڑی آگ لگ گئی۔
سپاہ نے کہا کہ اس کی بحری افواج رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے حکم اور آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے استعمال سے متعلق ایرانی عوام کے مطالبے کے مطابق اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول نافذ کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں : آبنائے ہرمز کی صورتحال کشیدہ: ایران کا تجارتی جہازوں کی سلیکٹو کنٹرول کا آغاز
امریکہ براہِ راست ذمہ دار: سپاہ
بیان میں امریکی فوج کو ایسے واقعات اور علاقائی بحری نقل و حمل میں بڑھتی کشیدگی کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ سپاہ کے مطابق واشنگٹن جہاز رانی اور انشورنس کمپنیوں کے معاملات میں مداخلت، انہیں دھوکا دینے اور بھاری رشوت دینے کے ذریعے ایسے واقعات کا سبب بن رہا ہے۔
سپاہ نے خبردار کیا کہ امریکہ کے بہکاوے میں آنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد ہوں گی اور ان کے جہازوں کے خلاف تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔ بیان کے مطابق اب یہ کارروائی صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی؛ غیر مجاز راستہ استعمال کرنے والے کسی بھی جہاز کا پورے خطے میں تعاقب کیا جائے گا اور "سزا یقینی ہوگی”۔
واضح رہے کہ جہاز کے مالکان یا کسی آزاد بحری ادارے کی جانب سے اس دعوے کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماخذ: تسنیم نیوز ایجنسی




