تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مؤثر امریکی سکیورٹی چھتری کو ترک کر دیں، اور خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن پر مسلسل انحصار ان ممالک کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز جاری کیے گئے ایک پیغام میں جنرل شکارچی نے کہا کہ امریکہ مغربی ایشیا میں اپنی ہی پیدا کردہ دلدل میں مزید دھنستا جا رہا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے ایندھن کی اسمگلنگ کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ "بحری قزاقی، چوری اور ایندھن کی اسمگلنگ” واشنگٹن کی حتمی شکست کو کبھی نہیں روک سکتی۔
آبنائے ہرمز پر امریکی دعوے حقائق نہیں بدل سکتے
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ امریکی پروپیگنڈا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے بار بار کیے جانے والے دعوے نہ تو زمینی حقائق کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی واشنگٹن کو اس کی ناکام حکمت عملیوں کے نتائج سے بچا سکتے ہیں۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور طاقتور ہیں اور ملک کے قومی مفادات اور سلامتی کا بھرپور دفاع کریں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلح افواج طاقتور کارروائی کے ذریعے "دشمنوں کو شکست سے دوچار کریں گی”۔
"ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بوسیدہ رسی”
انہوں نے کہا: "خطے کے ممالک کو اپنے تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بوسیدہ رسی پر بھروسہ کر کے خود کو موت کے گڑھے میں نہیں دھکیلنا چاہیے۔”
بریگیڈیئر جنرل شکارچی نے مزید کہا کہ ایران امریکہ اور صہیونی حکومت کو مغربی ایشیا میں اپنا من پسند علاقائی نظام بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے مقرر کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں، اور اسی روز ایران کے نگران وزیر دفاع نے بھی امریکی حکام کو ایران کے خلاف معاندانہ بیان بازی پر "آگ سے کھیلنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستہ اختیار کرنے والا ایک اور آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں




