دی وائس آف امہ : امریکی جریدے بلومبرگ نے اعتراف کیا ہے کہ مہینوں کی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران اپنی میزائل اور ڈرون فیکٹریاں بچانے میں کامیاب رہا ہے اور اب اپنے ذخائر دوبارہ بھر رہا ہے۔ بلومبرگ نے جمعے کو شائع ہونے والی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے مغربی حکام کے حوالے سے لکھا کہ تہران کے پاس اسلحہ تیار کرنے اور اپنا ذخیرہ دوبارہ تعمیر کرنے کی صلاحیت بدستور موجود ہے۔
بلومبرگ کا اعتراف: ذخائر بھرپور، پیداوار جاری
رپورٹ کے مطابق ایک مغربی اہلکار نے کہا کہ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں اور بعض اینٹی شپ ہتھیاروں کا "بھرپور ذخیرہ” ہے اور وہ ان میں تیزی سے اضافہ کر سکتا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے حملے دوبارہ شروع کیے تو ایران کے پاس مؤثر جواب کے لیے کافی قوت موجود ہے۔ جون تک کے مغربی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق ایران کے پاس جنگ سے پہلے کے اسلحے کا تقریباً تین چوتھائی حصہ محفوظ تھا۔
یہ انکشاف امریکی قیادت کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ ایرانی فوج کو "مکمل تباہ” قرار دے چکے ہیں، جبکہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 30 ستمبر کو دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کی "عسکری صنعتی صلاحیت” ختم کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے بلومبرگ کو دیے گئے بیان میں اس جائزے کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکی کارروائی نے ایران کے بیلسٹک میزائل، پیداواری تنصیبات اور بحریہ تباہ کر دی ہیں۔
برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے محقق سدھارتھ کوشل نے بلومبرگ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے اینٹی شپ میزائلوں کے ذخائر غالباً اب بھی بڑے ہیں، کیونکہ یہ نسبتاً آسانی سے بنتے ہیں اور ملک کے جنوبی پہاڑ انہیں فضائی حملوں سے قدرتی تحفظ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں : پینٹاگون کا اعتراف: ایران جنگ میں ہلاک امریکی فوجی 21 ہو گئے
تہران: پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ڈھائی گنا
پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے جمعرات کو کہا کہ مسلح افواج کے "ہاتھ بھرے ہوئے ہیں” اور دشمن کے مقابلے میں اسلحے کی کوئی کمی نہیں۔ ان کے مطابق مسلط کردہ جنگ کے بعد کے سات ماہ میں پیداوار جنگ سے پہلے کی اسی مدت کے مقابلے میں ڈھائی گنا رہی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اضافہ محفوظ متبادل پیداواری مقامات اور تقریباً 9 ہزار نجی نالج بیسڈ کمپنیوں کی شرکت سے ممکن ہوا، جبکہ اسٹریٹجک ذخائر کھپت سے زیادہ سطح پر برقرار رکھے گئے ہیں۔
ماخذ: بلومبرگ، پریس ٹی وی




