دی وائس آف امہ : ایئر فرانس نے ایک اسرائیلی پابندی نافذ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے تحت بعض ممالک کی شہریت رکھنے والے پائلٹ اور کیبن کریو اسرائیل جانے والی پروازوں پر کام نہیں کر سکیں گے، اور ان ممالک میں مسلم اکثریتی ممالک بھی شامل ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی نے یہ خبر فرانسیسی تحقیقاتی ادارے میڈیاپارٹ کی تحقیق کے حوالے سے دی ہے۔
ایئر فرانس اسرائیلی پابندی: 31 قومیتیں زد میں
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق یہ پابندیاں 31 قومیتوں پر لاگو ہیں جن میں الجزائر، تیونس، ایران اور پاکستان کے شہری شامل ہیں، اور ان میں سے کسی ملک کی شہریت رکھنے والے فرانسیسی شہری بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ ہدایت میں مذہب کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا، لیکن عملی طور پر ان ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان پائلٹ ان پروازوں سے باہر ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایئر فرانس نے متاثرہ ملازمین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اب اسرائیل کی پروازوں پر کام نہیں کر سکتے، اور عملے کو خبردار کیا ہے کہ دوسری شہریت ظاہر نہ کرنے پر تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اس اقدام پر فرانس میں ایئر لائن کو قانونی چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ ایئر فرانس نے تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔
مزید پڑھیں : فلائی دبئی واقعہ: معاون پائلٹ تکفیری نظریات سے متاثر تھا
فلائی دبئی واقعے کے بعد اسرائیلی حکم
مڈل ایسٹ آئی نے اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزارت ٹرانسپورٹ نے یہ ہدایت یکم اکتوبر کو جاری کی، جس کے تحت ایئر لائنز کو یقینی بنانا ہے کہ اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے والے پائلٹ اور فضائی میزبان کسی ایسے ملک کی شہریت یا دوہری شہریت نہ رکھتے ہوں جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
یہ حکم 30 ستمبر کو فلائی دبئی کے ایک عمانی معاون پائلٹ کی جانب سے دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز پر قبضے کی مبینہ کوشش کے بعد جاری ہوا۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اسرائیلی اور اماراتی بیانات کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
ماخذ: مڈل ایسٹ آئی




