دی وائس آف امہ : نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے غزہ پر مسلط کی گئی نسل کش جنگ میں واشنگٹن کی "ملی بھگت” کی شدید مذمت کی ہے۔ بدھ کو جاری بیان میں انہوں نے تل ابیب کو اسلحے کی فراہمی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ قبضے اور نسل پرستی پر مبنی دنیا کو مسترد کر دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کے مصائب 7 اکتوبر کو نہ تو شروع ہوئے تھے اور نہ ہی اس دن ختم ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں کم از کم 74,243 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے 1,460 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں : صحافیوں کی عالمی تنظیم کا انکشاف: غزہ جنگ صحافت کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دور
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے وسیع فوجی امداد فراہم کی ہے۔ امریکی ہتھیار بشمول لڑاکا طیارے، بھاری گولہ بارود اور آئرن ڈوم جیسے دفاعی نظام اسرائیلی فوج کے اسلحہ خانے کا اہم حصہ ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ اور خطے میں عام شہریوں پر حملوں میں امریکی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک امریکہ اسرائیل کے لیے کم از کم 25.5 ارب ڈالر مختص کر چکا ہے جو امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ادا کیے گئے ہیں۔




