مواد پر جائیں

زاہدان دہشت گرد حملہ: پزشکیان نے خاتون پولیس افسر کے قتل کی مذمت کی

دی وائس آف امہ : زاہدان دہشت گرد حملہ میں ایک سینئر خاتون پولیس افسر کی شہادت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندھے دہشت گرد حملے عوام کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ پریس ٹی وی کے مطابق صدر نے ہفتے کو جاری بیان میں ذمہ داروں کی فوری نشاندہی کا مطالبہ کیا۔

زاہدان دہشت گرد حملہ: گاڑی کو بم سے نشانہ بنایا گیا

صوبہ سیستان و بلوچستان کی پولیس کمان میں ثقافتی و سماجی امور کی نائب سربراہ نصرت افتخاری جمعے کو اس وقت شہید ہو گئیں جب زاہدان کے علاقے چشمہ زیارت جانے والی سڑک پر ان کی گاڑی کو بم سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں کئی دیگر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

صدر پزشکیان نے کہا: "عدم تحفظ پیدا کرنے، تشدد پھیلانے اور عوامی امن تباہ کرنے کے لیے کیے گئے اندھے دہشت گرد حملے بے گناہوں کا خون بہانے اور ذمہ داروں کی مجرمانہ فطرت بے نقاب کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔” انہوں نے اس قتل کو ایسے غیر انسانی جرائم کی "تلخ مثال” قرار دیا اور شہید کے اہل خانہ، پولیس اہلکاروں اور صوبے کے عوام سے تعزیت کی۔

مزید پڑھیں : قالیباف کا روبیو کو جواب: تم ایرانیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکو گے

تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس جرم کے تمام پہلوؤں کی فوری اور سنجیدہ تحقیقات کر کے اس کے مرتکب افراد اور حکم دینے والوں کو جلد از جلد شناخت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے مقابلے کی کوششیں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ ارنا کے مطابق ایرانی پولیس کے سربراہ نے خاتون افسر کے قتل کا بدلہ لینے، جبکہ اسپیکر قالیباف نے انصاف دلانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ماخذ: پریس ٹی وی، ارنا

About The Author