مواد پر جائیں

عالمی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیاں، حماس سمیت عالمی مذمت

دی وائس آف امہ : عالمی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیاں عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ قدس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے جمعہ کو جاری بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو بین الاقوامی انصاف پر سنگین حملہ اور نیتن یاہو سمیت صہیونی رہنماؤں کو غزہ میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے احتساب سے بچانے کی کھلی کوشش قرار دیا۔

حماس: نیتن یاہو کی خوشی احتساب کے خوف کا ثبوت

حماس نے کہا کہ نیتن یاہو کی جانب سے اس فیصلے کی تعریف ان کے احتساب کے خوف اور عدالت کے سامنے پیش ہونے سے بچنے کی کوششوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ تحریک نے روم اسٹیچوٹ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیاں مسترد کریں، عدالت کی حمایت کریں اور اس کے ججوں اور عملے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ انصاف کے دفاع کے لیے محض مذمت کافی نہیں۔

مزید پڑھیں : بھارت میں برکس اجلاس: ایرانی چیف جسٹس کا عالمی انصاف کا مطالبہ

عالمی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیاں اور عالمی ردعمل

انادولو ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "یا تو آئی سی سی اپنی دھمکیاں ختم کرے گی یا ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے”۔ ڈنمارک، جرمنی، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، برطانیہ، کینیڈا اور جاپان نے مشترکہ بیان میں پابندیوں کو مسترد کیا، جبکہ یورپی یونین نے فیصلے کو "انتہائی افسوسناک” قرار دیتے ہوئے عدالت کے تحفظ کے لیے اقدامات کی تیاری ظاہر کی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے بین الاقوامی فوجداری انصاف کے لیے سنگین دھچکا قرار دیا۔ عدالت کی صدر توموکو اکانے نے کہا کہ عدالت آزادی اور غیرجانبداری سے اپنا کام جاری رکھے گی۔ انادولو کے مطابق جمعہ تک ردعمل دینے والی حکومتوں میں صرف اسرائیل نے پابندیوں کا کھل کر خیرمقدم کیا۔ یاد رہے کہ عدالت نے نومبر 2024 میں غزہ میں جنگی جرائم کے الزام پر نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ماخذ: قدس نیوز ایجنسی، انادولو ایجنسی

About The Author