ایران کی اسرائیل اور امریکی اڈوں پر حملے کی دھمکی: کیا ایران اسرائیل جنگ شروع ہونے والی ہے؟
تہران: مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر عالمی برادری کو اپنی فوجی طاقت اور ارادوں سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا رخ براہِ راست اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی طرف ہوگا۔ یہ بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران کو اندرونی طور پر شدید عوامی احتجاج اور بیرونی طور پر سخت امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کا سخت موقف اور فوجی انتباہ
اتوار کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے واشنگٹن کو سخت وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ قالیباف، جو خود پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں، نے واضح کیا کہ:
"امریکا کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اگر ایران پر کوئی آنچ آئی تو مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کے تمام اہم مقامات، خطے میں امریکی بحری جہاز اور فوجی اڈے ہمارے میزائلوں کے نشانے پر ہوں گے۔”
اسرائیل میں ہائی الرٹ اور دفاعی حکمتِ عملی
ایرانی دھمکیوں کے بعد اسرائیل میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے کسی بھی ممکنہ میزائل یا ڈرون حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے سرکاری طور پر کوئی بڑا بیان جاری نہیں کیا، لیکن تل ابیب میں دفاعی مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے
یہ بھی پڑھیں: ایران نے 40 روزہ جنگ میں امریکہ کے تمام 16 فوجی اڈوں پر حملے کیے: ریڈار سسٹم اور تنصیبات ناقابل استعمال
ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی اور امریکی مداخلت کا امکان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایرانی قیادت کو سخت تنبیہ کی ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی لہر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "امریکا ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے”۔ صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو تہران میں "داخلی معاملات میں مداخلت” قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا خیال ہے کہ امریکا کی یہ جارحانہ پالیسی ایران کو دفاعی پوزیشن سے نکال کر جارحانہ پوزیشن پر لے آئی ہے۔
ایران میں داخلی احتجاج: ایک سنگین انسانی بحران
ایران میں 2022 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے اب پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار
انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق:
مجموعی ہلاکتیں: 116 افراد (جن میں زیادہ تر عام شہری اور مظاہرین شامل ہیں)۔
سیکیورٹی اہلکار: اب تک 37 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
متاثرہ علاقے: تہران، یاسوج، اور پونک سمیت مغربی ایران کے کئی شہر احتجاج کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ریاست کو "بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی” کا سامنا ہے۔
تاریخی پس منظر: جون کی 12 روزہ مختصر جنگ
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ خطہ اس نہج پر پہنچا ہو۔ گزشتہ سال جون میں بھی اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ شدید جنگ ہوئی تھی۔ اس دوران امریکا نے اسرائیل کی بھرپور فضائی مدد کی تھی، جس کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔ موجودہ صورتحال اس پرانی دشمنی کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک سمت میں لے جا رہی ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش اور بلیک آؤٹ
ایرانی حکومت نے احتجاج کی شدت کو کم کرنے اور معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جمعرات سے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے۔ اس ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے باوجود سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں عوام کو رات کے وقت تہران کی سڑکوں پر احتجاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
عالمی ردعمل اور تیل کی منڈیوں پر اثرات
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل جنگ کے خطرے نے عالمی تیل کی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اگر خلیج فارس میں کشیدگی بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔
نتیجہ: کیا سفارت کاری کا وقت ختم ہو چکا ہے؟
موجودہ صورتحال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دروازے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ ایران جہاں اپنی بقا کے لیے مزاحمتی بلاک کو مضبوط کر رہا ہے، وہی اسرائیل اور امریکا اسے مکمل تنہا کرنے کی کوشش میں ہیں۔
اگر عالمی طاقتوں نے فوری طور پر مداخلت نہ کی تو ایران کی دھمکی ایک خونی حقیقت میں بدل سکتی ہے، جس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آئے گی۔





One Response