امریکی حکومت نے اپنی اسرائیل نواز پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے برطانیہ میں سرگرم تنظیم ‘فلسطین ایکشن’ کو نام نہاد عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکومت کا یہ متعصبانہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت بھی اس تنظیم کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے وابستہ افراد کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کر رہی ہے۔
2020 میں قائم ہونے والی یہ تنظیم غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتی رہی ہے اور اس کی سرگرمیوں کا بنیادی ہدف برطانیہ میں موجود اسرائیلی دفاعی کمپنیاں، خصوصاً ایلبٹ سسٹمز (Elbit Systems) رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نیپال میں سیلاب سے ہولناک تباہی: اموات 469 ہو گئیں، چین کا جھیل ٹوٹنے کا الرٹ
فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدا عموری نے امریکی و برطانوی حکومتوں کے اقدامات کو آزادی اظہار اور شہری حقوق پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی تنظیم کا واحد مقصد اسرائیلی جنگی مشین کو مفلوج کر کے معصوم فلسطینیوں کی جانیں بچانا اور غزہ میں جاری نسل کشی میں عالمی تعاون کو روکنا ہے۔
امریکی حکومت نے فلسطین ایکشن کے ساتھ ساتھ اٹلی کے گروپ ‘Autistici/Inventati’ اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم گروپ ‘مسار بدیل’ (Masar Badil) کو بھی بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے واشنگٹن اور لندن کے ان جابرانہ ہتھکنڈوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنے اور سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو جرم ثابت کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔




