معروف امریکی صحافی اور فاکس نیوز کے سابق میزبان ٹکر کارلسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی گیدڑ بھبکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک حالیہ نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹکر کارلسن نے امریکی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے موقف کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
سرخ لکیر کا عبور: جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دینا ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
قیادت کا حق: جو بھی عہدیدار ایٹمی ہتھیاروں کے پہلے استعمال کی بات کرے، وہ اخلاقی اور اصولی طور پر قیادت کرنے کا حق کھو دیتا ہے۔
فوری برطرفی کا مطالبہ: ایسے غیر متوازن بیانات دینے والے شخص کو فوری طور پر صدارت کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں انتہائی تکبر آمیز دعویٰ کیا تھا کہ اگر ایران مقرر کردہ مدت تک امریکا کے ساتھ کسی معاہدے پر نہ پہنچا تو ایک پوری تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
تاہم، عالمی سطح پر اور خود امریکی عوام کے شدید دباؤ کے بعد استکباری قوتوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ اپریل کے اواخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم امہ کے اہم ملک ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے اور کہا کہ واشنگٹن کو ایسے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔




