مواد پر جائیں

اردن حکومت سروے: 44 فیصد کے مطابق معاشی حالت بدتر

دی وائس آف امہ : اردن حکومت سروے کے تازہ نتائج ہفتے کو جاری کر دیے گئے، جن کے مطابق وزیراعظم جعفر حسان کی حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر دو تہائی اردنی شہری حکومت پر زیادہ یا درمیانے درجے کا اعتماد رکھتے ہیں، تاہم 44 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کی معاشی حالت ایک سال پہلے سے بدتر ہو چکی ہے۔ یہ سروے اردن یونیورسٹی کے مرکز برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز نے کیا۔

اعتماد میں اضافہ، سمت پر رائے

اردنی خبر رساں ادارے پیٹرا اور جارڈن نیوز کے مطابق قومی نمونے کے 66 فیصد اور رائے سازوں کے 67 فیصد نے حکومت پر اعتماد ظاہر کیا۔ 56 فیصد کے خیال میں ملک درست سمت میں جا رہا ہے، جو پچھلے سروے میں 54 فیصد تھے، جبکہ 33 فیصد نے سمت کو غلط قرار دیا۔ درست سمت کہنے والوں میں سے 48.2 فیصد نے اس کی وجہ قومی سلامتی اور استحکام بتائی۔ 62 فیصد علاقائی معاملات سنبھالنے کی حکومتی صلاحیت پر پُرامید ہیں، جو گزشتہ سال 52 فیصد تھے۔

مزید پڑھیں : اردن اور چین کا مشترکہ اعلامیہ: غزہ جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور

اردن حکومت سروے میں معاشی دباؤ نمایاں

جارڈن نیوز کے مطابق 44 فیصد شہریوں نے اپنی معاشی حالت کو بدتر قرار دیا، جو اپریل 2026 میں 51 فیصد تھے، جبکہ صرف 12 فیصد نے بہتری بتائی۔ بے روزگاری، روزگار کے محدود مواقع اور کم آمدن کو قومی نمونے کے 49.1 فیصد نے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، جس کے بعد غربت اور مہنگائی کا نمبر آتا ہے۔ کم از کم اجرت میں 30 دینار اضافے کو 69 فیصد نے مہنگائی سے نمٹنے میں مددگار کہا، مگر 31 فیصد کے نزدیک یہ اقدام ناکافی رہا۔ اگلے سال بلدیاتی انتخابات میں 34 فیصد نے یقینی شرکت کا کہا جبکہ 35.7 فیصد نے حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔

ماخذ: پیٹرا، جارڈن نیوز

About The Author