مواد پر جائیں

جنوبی شام میں اسرائیلی دراندازی: ستمبر میں 280 واقعات

دی وائس آف امہ : جنوبی شام میں اسرائیلی دراندازی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے کہا ہے کہ صرف ستمبر کے مہینے میں اسرائیلی فوج کی شام میں تقریباً 280 مسلح دراندازیاں ریکارڈ کی گئیں، جو رواں سال کی سب سے بڑی ماہانہ تعداد ہے۔ ہفتے کو سامنے آنے والی تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے قنیطرہ کے گاؤں رسم الحیدرہ میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔

جنوبی شام میں اسرائیلی دراندازی اور 49 شامی قیدی

شامی خبر رساں ادارے سانا کے مطابق اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر کی ترجمان شبیہ منتو نے جنیوا میں جمعے کو کہا کہ ان واقعات میں گھروں پر چھاپے، نقل و حرکت پر پابندیاں، شہریوں کو ہراساں کرنا، من مانی گرفتاریاں اور روزگار کی تباہی شامل ہیں۔ دفتر کے مطابق کم از کم 49 شامی اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔ رہا ہونے والے قیدیوں نے بعض صورتوں میں ایک سال سے زائد حراست، مار پیٹ، طویل وقت تک زبردستی کھڑا رکھنے، کتے چھوڑنے اور اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں کا ذکر کیا ہے۔

بیان کے مطابق بدھ کو شمالی قنیطرہ کے جباتا الخشب میں ایک معذور کسان کو گولی مار کر زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا، جبکہ پیر کو الحمیدیہ کے قریب قصبہ جبا کا 22 سالہ نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔ ہائی کمشنر فولکر ترک نے ان واقعات کی فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں : اسرائیلی آباد کار گروپ نے مقبوضہ شامی زمین پر فصلوں پر قبضے کا مطالبہ کیا

سلامتی کونسل اور 1974 کا معاہدہ

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اسرائیلی فوج نے بدھ کو قنیطرہ کے گاؤں السمدانیہ الشرقیہ کے مضافات میں زرعی زمینوں پر گولہ باری بھی کی۔ سانا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جمعرات کو 1974 کے فائر بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کا متفقہ طور پر اعادہ کیا، جس کا شامی وزارت خارجہ نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ دہرایا۔

ماخذ: سانا، مڈل ایسٹ آئی

About The Author