مواد پر جائیں

عراقی دینار کی قدر میں کمی: حقوق بلاک کا عدالت جانے کا اعلان

دی وائس آف امہ : عراقی دینار کی قدر میں کمی کے حکومتی فیصلے کے خلاف سیاسی اور عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ شفق نیوز کے مطابق مزاحمتی تنظیم کتائب حزب اللہ سے وابستہ پارلیمانی "حقوق بلاک” نے ہفتے کو متاثرہ عراقیوں سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے کو مسترد کریں اور وفاقی سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کرنے میں بلاک کا ساتھ دیں۔

"صرف ذمہ داری لینا کافی نہیں”

بلاک کے سربراہ سعود الساعدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اصل مسئلہ بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف حقیقی جنگ کا فقدان ہے، جس کا ذمہ دار انہوں نے 2003 کے بعد آنے والی تمام عراقی حکومتوں کو قرار دیا۔ شفق نیوز کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم علی الزیدی کو عوام کے سامنے اس فیصلے کی وضاحت کرنی چاہیے: "یہ ذاتی معاملہ نہیں، صرف یہ کہنا کہ وہ ذمہ داری لیتے ہیں کافی نہیں، کیونکہ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔” ان کے مطابق بلاک ڈالر کے نرخ پر پارلیمان کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے ارکان کے دستخط جمع کر رہا ہے۔

عراقی مرکزی بینک نے عوام کے لیے سرکاری نرخ 1,320 سے بڑھا کر 1,520 دینار فی ڈالر کر دیا ہے۔ گورنر نزار حسین نے پارلیمان کی مالیاتی کمیٹی کو بتایا کہ 1,500 کا نیا سرکاری نرخ طے شدہ ہے اور وفاقی بجٹ کا مسودہ اسی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : عراقی حاکمیت کو مفلوج کرنے کی امریکی سازش

40 لاکھ مزدور متاثر ہونے کا خدشہ

شفق نیوز سے گفتگو میں بے روزگاروں کی یونین کے سربراہ رحیم الغانمی نے خبردار کیا کہ معاشی سرگرمیاں سست پڑنے سے تقریباً 40 لاکھ رجسٹرڈ مزدور متاثر ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر کارخانے اور منصوبے بند ہوئے۔ بغداد چیمبر آف کامرس کے رکن سرمد الکواز کے مطابق قیمتیں بڑھنے سے بازاروں میں خریداری کم ہو گئی ہے۔ ادھر پارلیمان کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی کا کہنا ہے کہ فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔

ماخذ: شفق نیوز

About The Author