غزہ میں موسم گرما اب صرف سورج کی تپش نہیں بلکہ اہل غزہ کے صبر اور بقا کا کٹھن امتحان بن چکا ہے۔ شدید گرمی، پینے کے پانی کی کمی، بجلی کا اندھیرا اور پناہ گاہوں میں انسانی ہجوم نے زندگی کو گھٹن میں بدل دیا ہے۔
تپتے ہوئے خیمے تندور بن چکے ہیں جہاں معصوم بچے، ضعیف بوڑھے اور مریض سب سے پہلے متاثر ہو رہے ہیں۔ لوگ ہر بوند پانی کو سنبھال کر استعمال کرتے ہیں مگر صفائی کے لیے پانی کی کمی بیماریوں کو فروغ دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ کی زرخیز زمینیں ویرانی میں بدل گئیں، زراعت نسل کشی کی جنگ کی نذر
وسطی غزہ کے ایک کیمپ میں مقیم 60 سالہ ام جمال خیمے کو جہنم کا ٹکڑا قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ سورج نکلتے ہی خیمہ دہک اٹھتا ہے جبکہ دن بھر مکھیاں اور رات کو مچھر سکون نہیں لینے دیتے۔ ابو سالم بتاتے ہیں کہ ان کے بچے جلد کی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور پانی کی کمی نے غسل کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ، اونروا اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ خیموں میں جلد کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، نکاسی آب کا نظام تباہ ہے اور صحت کا نظام آخری سانس لے رہا ہے۔ غزہ کے لوگ صرف قابض دشمن سے نہیں بلکہ شدید گرمی اور دنیا کی خاموشی کے بیچ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔


