امریکہ اور اسرائیل کا 75 سالہ گٹھ جوڑ آج بھی جاری ہے۔ اس حصے میں 1967 سے 1973 کے درمیان دونوں کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح امریکہ نے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی۔
جون 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف فتح حاصل کی۔ اس جنگ کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو ایک اہم فوجی طاقت کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ امریکہ نے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر اسلحہ دیا اور انٹیلی جنس تعاون بڑھایا۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے ڈرون حملے میں شمالی فلسطین میں اسرائیلی فوجی ہلاک
اکتوبر 1973 کی یوم کیپور جنگ میں جب مصر اور شام نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل کی حالت خراب ہو گئی۔ اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مائیر نے امریکہ سے مدد مانگی۔ امریکہ نے فوری طور پر آپریشن نکل گراس شروع کیا اور اسرائیل کو ہزاروں ٹن اسلحہ بھیجا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا فوجی رسد آپریشن تھا۔
اس جنگ کے بعد امریکہ نے فیصلہ کیا کہ اسرائیل کو ہمیشہ عرب ممالک پر فوجی برتری دی جائے۔ اسی سوچ سے "Qualitative Military Edge” پالیسی وجود میں آئی۔
اس عرصے میں امریکہ نے اسرائیل کو سیاسی، سفارتی اور فوجی طور پر مضبوط کیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر آج بھی امریکہ اسرائیل کا اتحاد قائم ہے جو ایران، لبنان، فلسطین اور دیگر مسلمان ممالک کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
ایران نے ہمیشہ اس گٹھ جوڑ کی مخالفت کی ہے اور اپنی خودمختاری اور مزاحمت کے ذریعے اسے ناکام بنانے کی کوشش کی ہے۔


