کلب برائے اسیران نے قابض اسرائیلی جیل انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مارچ اور اپریل کے دوران دامون جیل میں 10 بار وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جہاں 88 فلسطینی اسیر خواتین قید ہیں۔ ان میں دو بچیاں اور تین حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران اسیرات پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ انہیں زبردستی زمین پر لٹایا گیا اور ہاتھ پیچھے باندھ دیے گئے۔ مرد اور خاتون جیلر اسی بے بسی کی حالت میں انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے جس سے متعدد اسیرات شدید زخمی ہوئیں۔
کلب برائے اسیران نے بتایا کہ کم از کم 6 اسیرات کو تنہائی میں رکھا گیا ہے جن میں سے بعض کی تنہائی دو ہفتے سے زیادہ جاری ہے۔
جیل کی کوٹھڑیوں میں شدید ازدحام ہے۔ بعض کوٹھڑیوں میں 10 اسیرات ٹھونس دی گئی ہیں اور اکثریت کو زمین پر سونا پڑ رہا ہے۔
اسیرات کو بھوک کا سامنا ہے۔ ایک اسیرہ کا وزن گرفتاری کے چند ماہ میں تقریباً 30 کلوگرام کم ہو گیا۔
اسیرات کو علاج معالجے سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ دو اسیرات کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں جن کی حالت خراب ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ پر اسرائیلی گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری
جیل میں منتقل کرتے وقت یا حراست کے دوران اسیرات کو برہنہ تلاشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انتہائی توہین آمیز اور ذلت آمیز ہے۔
کلب برائے اسیران نے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر بچیوں، حاملہ خواتین اور بیمار اسیرات کی۔ انہوں نے ان جرائم کو قید خانوں کے اندر جاری نسل کشی کا حصہ قرار دیا ہے۔
اس وقت قابض اسرائیل کی جیلوں میں 9400 سے زائد فلسطینی اسیر ہیں۔


