خطام الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر ایرانی میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز کی واحد محافظ سلامتی ہیں اور اس اسٹریٹجک آبی راستے پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ "تنگہ ہرمز کی سلامتی ایرانی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے اور اس میں کسی بھی محفوظ گزر کا انحصار ہماری فورسز کے ساتھ ہم آہنگی پر ہے”۔ تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو تنگہ عبور کرنے سے پہلے ایرانی فورسز کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کرنی ہوگی، بغیر ہم آہنگی کے گزرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
امریکہ اور دیگر غیر ملکی فورسز کو سخت انتباہ دیتے ہوئے جنرل عبداللہی نے کہا کہ اگر امریکی فوج یا کوئی بھی غیر ملکی مسلح دستہ تنگہ ہرمز کے قریب آیا یا داخل ہونے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی فوج کو "جارح دہشت گرد” اور "سمندری قزاق” قرار دیا۔
یہ بھی پرھیں : ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو، ثالثی کی تعریف
انہوں نے واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کو بھی خبردار کیا کہ "امریکہ کے اتحادی ناقابل تلافی پچھتاوے سے بچیں”۔ انہوں نے کہا کہ جارح اور ان کے اتحادی سمجھ لیں کہ ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا پکا جواب دیں گی۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "پروجیکٹ فریڈم” کے اعلان کے جواب میں سامنے آیا ہے جس کے تحت امریکہ تنگہ ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے بحری آپریشن شروع کرنے جا رہا ہے۔ ایران نے ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنگہ ہرمز میں امریکی مداخلت موجودہ سیز فائر فریم ورک کی خلاف ورزی ہوگی۔


