مواد پر جائیں

یمن پر سعودی جنگ کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ: اسرائیل سعودی عرب انٹیلیجنس تعاون پر رپورٹس کیا بتاتی ہیں

دی وائس آف امہ: ریاض عالمِ اسلام کو یہ بتا رہا ہے کہ وہ یمن کے مقابلے میں حرمین شریفین کا دفاع کر رہا ہے، مگر اسرائیلی، امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس ایک مختلف تصویر دکھاتی ہیں: یمن پر سعودی جنگ، جس میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ذریعے اسرائیلی انٹیلیجنس، سعودی سرزمین پر امریکی فوجی مشیر اور ٹارگٹنگ ٹولز، سعودی طیاروں کے لیے امریکی فضائیہ کی ری فیولنگ پروازیں، اور 24.3 ارب ڈالر کے امریکی ایف-35 طیاروں کا نیا پیکج شامل ہے۔ اسرائیل سعودی عرب انٹیلیجنس تعاون کا تازہ ترین اعتراف خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔

ٹرمپ کا اعتراف

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق 16 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ریاض کو انصار اللہ کے خلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہیے، تو انہوں نے کہا: "ہاں، بالکل۔ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار رہا ہے۔” یورونیوز عربی (17 اکتوبر) کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب "اسرائیل کی حمایت اور ہماری حمایت” پر "بہت خوش” ہے۔ اسی روز اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ نے اپنے تجزیے میں لکھا: "سعودی عرب واقعی اسرائیل سے فوجی مدد حاصل کر رہا ہے”، جو اب تک "ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلیجنس” پر مرکوز ہے، اور "امریکیوں نے اسرائیلی فوج سے سعودیوں کی مدد کرنے کو کہا ہے۔”

سینٹکام کے ذریعے اسرائیلی انٹیلیجنس

یہ اعترافات ایک ماہ پر محیط رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے 15 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے کے ممالک سے مدد مانگی "اور بالواسطہ طور پر اسرائیل سے بھی”، اور اسرائیل سے سینٹکام کے ذریعے "انٹیلیجنس اور دیگر مدد” کی درخواست کی گئی تاکہ حوثی باب المندب بند نہ کر سکیں۔ اسی روز پاکستانی اخبار پاکستان آبزرور نے اسرائیل ہیوم کے حوالے سے لکھا کہ محمد بن سلمان نے سینٹکام کے ذریعے بالواسطہ طور پر "تل ابیب سے مدد، بشمول انٹیلیجنس معاونت” طلب کی۔ 16 ستمبر کو اسرائیل ہیوم نے ایک اسرائیلی عہدیدار کا یہ بیان شائع کیا: "یہ بالکل واضح ہے کہ سعودی کیا مانگ رہے ہیں”، اور "انٹیلیجنس اور قبل از وقت انتباہ کے شعبے میں یہ مدد سینٹکام کے ذریعے فراہم ہو رہی ہے۔” اخبار کے مطابق امریکہ انصار اللہ کے خلاف ایک علاقائی اتحاد بنا رہا ہے "اور اسرائیل اس میں شامل ہے۔”

15 ستمبر ہی کو دیگر اداروں نے بھی یہی چینل رپورٹ کیا۔ وائی نیٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلیجنس سینٹکام کے ذریعے ریاض پہنچ رہی ہے، اور یہ معاملہ جدہ میں سینٹکام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر اور محمد بن سلمان کی ملاقات میں بھی زیرِ بحث آیا۔ ایران انٹرنیشنل نے یروشلم پوسٹ اور والا کے حوالے سے سینٹکام کی ثالثی میں اسرائیلی-سعودی مذاکرات کی خبر دی، جن کا مقصد حوثی تعیناتیوں اور آئندہ کارروائیوں کی انٹیلیجنس تصویر بنانا تھا۔ ڈیلی صباح نے اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے "کان” کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن سے سعودی درخواست کے بعد اسرائیل نے امریکی ثالثوں کے ذریعے سعودی عرب کو انصار اللہ سے متعلق انٹیلیجنس فراہم کرنا شروع کر دی ہے، جس کا بنیادی مقصد باب المندب میں جہاز رانی کا تحفظ ہے۔ 17 اکتوبر کو ایران انٹرنیشنل نے دوبارہ کان کے حوالے سے لکھا کہ واشنگٹن نے سعودی درخواست اسرائیل کو منتقل کی، اسرائیل نے انٹیلیجنس دینا شروع کی، اور قاہرہ میں سینٹکام نے ریاض کی مدد کے لیے "مشترکہ علاقائی میکانزم” کی تجویز دی۔

26 ستمبر کو یروشلم پوسٹ نے واضح لکھا کہ سعودی ضروریات ان شعبوں سے ملتی ہیں جن میں اسرائیل کو برتری حاصل ہے: "حوثیوں سے متعلق انٹیلیجنس، ان کے خلاف آپریشنل تجربہ، نشاندہی اور انٹرسیپشن کے نظام، اور انٹیلیجنس کو طویل فاصلے کے حملوں سے جوڑنے کا برسوں کا تجربہ۔” انصار اللہ کے قائد سید عبدالملک الحوثی پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ سعودی عرب نے "یمن کے خلاف اسرائیلی جاسوس پروازوں کے لیے اپنے ہوائی اڈے کھول دیے ہیں”، جس کا ذکر اسرائیل ہیوم نے 13 اکتوبر کو خود کیا۔

مزید پڑھیں: طاہر اشرفی یمن پر سعودی بیانیہ دہراتے رہے، جبکہ ٹرمپ کا اعتراف: اسرائیل سعودی عرب کا مددگار

امریکی مشیر، ٹارگٹنگ، ری فیولنگ اور جنگی طیارے

سی این این نے 10 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ 100 سے زائد امریکی فوجی مشیر سعودی عرب میں انصار اللہ کے خلاف مہم کے لیے انٹیلیجنس اور ٹارگٹنگ میں مدد دے رہے ہیں؛ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ تعداد تقریباً 200 ہے اور یہ ایک نئی مشترکہ فورسز کمانڈ کا حصہ ہیں۔ امریکہ نے سعودیوں کو میدانِ جنگ کو براہِ راست دیکھنے والے ٹارگٹنگ ٹول کے استعمال میں مدد دی اور حملوں کے لیے "جیو اسپیشل” ٹارگٹنگ معاونت فراہم کی، جیسا کہ اناطولیہ نے بھی اسی روز رپورٹ کیا۔ 7 اکتوبر کو المانیٹر نے انکشاف کیا کہ امریکی فوجی مشیر "خاموشی سے سعودی کمانڈروں کو یمن میں حوثی ٹھکانوں سے متعلق انٹیلیجنس کے تجزیے میں مدد دے رہے ہیں”، اور ساتھ ہی "امریکی فضائیہ کی ری فیولنگ پروازیں سعودی لڑاکا طیاروں کو فضا میں رکھ رہی ہیں”؛ المانیٹر نے اسے یمن جنگ سے امریکی لاتعلقی کی "جزوی واپسی” قرار دیا۔

17 ستمبر کو امریکی محکمۂ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیاروں کی 24.3 ارب ڈالر کی ممکنہ فروخت منظور کی۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق یمن پر بمباری خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے اڑنے والے امریکی ایف-15 اور یورپی ٹائیفون طیاروں سے کی جا رہی ہے (صبا، 16 اکتوبر)۔

برسوں پر محیط ریکارڈ

جنوری 2021 میں پینٹاگون نے اسرائیل کو سینٹکام کے دائرۂ کار میں منتقل کیا تاکہ "اہم شراکت داروں کو مشترکہ خطرات کے خلاف صف بند” کیا جا سکے؛ یکم ستمبر 2021 کو یہ تبدیلی نافذ ہوئی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے جون 2022 میں انکشاف کیا کہ مارچ 2022 میں شرم الشیخ میں امریکہ کی میزبانی میں ایک خفیہ اجلاس ہوا، جس میں اسرائیلی فوج کے سربراہ سعودی چیف آف اسٹاف فیاض الرویلی اور دیگر عرب کمانڈروں کے ساتھ بیٹھے اور فضائی خطرات کی فوری اطلاع کے نظام پر اصولی اتفاق ہوا۔ سٹیزن لیب نے 2018 میں شواہد کے ساتھ بتایا کہ ایک سعودی سے منسلک آپریٹر نے اسرائیلی کمپنی این ایس او کا پیگاسس اسپائی ویئر جمال خاشقجی کے قریبی ساتھی عمر عبدالعزیز کے خلاف استعمال کیا۔

2015 سے 2022 کی جنگ میں امریکہ نومبر 2018 تک اتحادی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرتا رہا (روئٹرز)۔ سی این این نے اگست 2018 میں ثابت کیا کہ ضحیان میں اسکول بس پر گرایا گیا بم، جس میں 40 بچوں سمیت 51 افراد شہید ہوئے، لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ایم کے 82 تھا جو امریکی منظوری سے فروخت ہوا۔ ستمبر 2019 میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اسلحہ، انٹیلیجنس اور لاجسٹک مدد کے ذریعے یمن میں جنگی جرائم میں شریک ہو سکتے ہیں۔

یمن میں انسانی قیمت

صنعاء کی وزارتِ صحت کے مطابق 3 ستمبر سے 15 اکتوبر تک سعودی حملوں میں 114 یمنی شہید اور 305 زخمی ہوئے۔ صبا کے مطابق ذمار میں سعودی کلسٹر بموں سے 3 بچے شہید اور 17 افراد زخمی ہوئے، جبکہ یحییٰ سریع کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک 2,489 سعودی فضائی و میزائل حملے ہو چکے ہیں۔ جو اسرائیل آج ریاض کو انٹیلیجنس دے رہا ہے، غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق وہ اکتوبر 2023 سے اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے (اناطولیہ)۔

لاہور سے ریاض تک کے منبروں سے، جن میں 16 اکتوبر کو حافظ طاہر محمود اشرفی کا خطبہ بھی شامل ہے، یہ الزام دہرایا گیا کہ یمن مکہ و مدینہ کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ سید عبدالملک الحوثی نے اسے "اس دور کا سب سے بڑا جھوٹ” قرار دیا اور یحییٰ سریع کے فضائی انتباہات میں دونوں مقدس شہروں کو واضح طور پر مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان خطیبوں سے سوال سادہ ہے: اگر اسرائیل امت کا دشمن ہے تو اس جنگ کا دفاع کیوں، جس میں اسرائیل کا اپنا میڈیا اس کی شرکت کا اعتراف کر رہا ہے؟

About The Author