دی وائس آف امہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یمن کے خلاف جاری جنگ میں اسرائیل سعودی عرب کی مدد کر رہا ہے، اور ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ "شاید پہلے سے کہیں زیادہ” دوبارہ میز پر آ گیا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا ریاض کو انصار اللہ کے خلاف اسرائیل کی مدد کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے، تو انہوں نے جواب دیا: "ہاں، بالکل۔ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار رہا ہے۔” یورونیوز عربی کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب "اسرائیل کی حمایت اور ہماری حمایت حاصل کر کے بہت خوش ہے۔” امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل نے کس نوعیت کی مدد فراہم کی ہے۔
اسرائیل کی سعودی عرب کو مدد: نیتن یاہو کی پیشکش
ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ نے 13 اکتوبر کو اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے یمن میں جاری فوجی مہم میں شامل ہونے کے لیے ریاض کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک ذریعے کے مطابق اسرائیل کو امید تھی کہ یہ فوجی تعاون دوطرفہ تعلقات مضبوط کرے گا اور مستقبل میں تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔ اسی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عوام کے منفی ردعمل کے خدشے کے باعث یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
مزید پڑھیں: عدن میں معسکر بدر پر یمنی میزائل حملہ، سعودی افواج کا کمانڈ ہیڈکوارٹر نشانہ
گزشتہ ماہ اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ نے علاقائی سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ذریعے سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یورونیوز کے مطابق نیتن یاہو اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ "مشرقِ وسطیٰ میں شاید ہی کوئی ملک ہو جو ہم سے مدد نہ مانگتا ہو۔”
24.3 ارب ڈالر کے ایف-35 طیارے
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی محکمۂ خارجہ نے 17 ستمبر کو سعودی عرب کو 48 ایف-35 لڑاکا طیاروں اور متعلقہ سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی، جس کی تخمینی مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے اور جسے ابھی کانگریس کے جائزے سے گزرنا ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق یمن پر حالیہ فضائی حملوں میں امریکی ساختہ ایف-15 اور یورپی ساختہ ٹائفون طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ریاض کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ تعلقات معمول پر لانا فلسطینی ریاست کے قیام کے واضح راستے سے مشروط ہے۔ یورونیوز کے مطابق ٹرمپ ماضی میں واشنگٹن اور ریاض کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے کو بھی سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے جوڑ چکے ہیں۔ ادھر صنعاء کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابوراس نے جمعہ کو اسلامی ممالک کے نام خطوط میں کہا کہ سعودی حکومت نے حال ہی میں صنعاء کے خلاف دفاعی اتحاد قائم کیے ہیں تاکہ دوسروں کو بھی یمن کے خلاف جنگ میں شامل کیا جائے۔




