دی وائس آف امہ: یمن کی مسلح افواج نے جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں معسکر بدر کے اندر قائم سعودی افواج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر اور اسلحہ کے گوداموں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے جمعہ کی شب تصدیق کی کہ حملے کا ہدف عدن گورنری میں معسکر بدر میں سعودی فورسز کا کمانڈ سینٹر اور کیمپ کے اندر موجود ہتھیاروں کے ذخائر تھے۔
یہ کارروائی عدن کے قصر المعاشیق پر حملے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق جمعرات کو قصر المعاشیق میں سعودی فوجی آپریشنز ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ عدن حکومت کے وزیر صحت کے مطابق اس حملے میں 5 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ الجزیرہ کے مطابق جنرل سریع نے کہا کہ عدن پر حملے اس اعلان شدہ پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت "سعودی کمک کو جہاں بھی ہو” نشانہ بنایا جائے گا۔
معسکر بدر: عدن ایئرپورٹ سے متصل فوجی اڈہ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق معسکر بدر عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل ایک فوجی تنصیب ہے۔ سعودی حمایت یافتہ حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے دعویٰ کیا کہ دو میزائل رن وے کے قریب ایک ایسے مسافر طیارے سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر گرے جو قاہرہ روانگی کی تیاری کر رہا تھا، تاہم تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسی روز سعودی قیادت والے اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل، بحیرۂ احمر کے اوپر دو کروز میزائل اور جنوبی علاقے اور ریاض کی جانب آنے والے تین ڈرون مار گرائے۔ الجزیرہ کے مطابق ینبع وہ اہم آئل ہب ہے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب اپنا خام تیل بحیرۂ احمر کے راستے برآمد کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ذمار پر سعودی کلسٹر بم حملہ: 3 بچے شہید، 17 زخمی
"سعودی عرب کے بغیر مقابلہ بہت بڑا چیلنج ہوگا”
الجزیرہ نے ہفتے کو شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ یمنی میزائل حملوں اور تعز کے اطراف انصار اللہ کی پیش قدمی نے ان اہم سپلائی راستوں کو کاٹ دیا ہے جن پر سعودی حمایت یافتہ فورسز انحصار کرتی ہیں، اور اس سے "فجرِ یمن” نامی آپریشن کمزور پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں انصار اللہ نے بحیرۂ احمر کی بندرگاہ مخا کا کنٹرول حاصل کیا اور حکومتی جوابی کارروائی اسے واپس نہیں لے سکی۔
اسی رپورٹ میں حکومت نواز جوائنٹ فورسز کے ترجمان کرنل وضاح الدبیش کا یہ اعتراف بھی شامل ہے: "سعودی عرب کے بغیر یمنی حکومت کے لیے حوثیوں کا مقابلہ کرنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔” انہوں نے مختلف کمانڈ ڈھانچوں کے تحت لڑنے والی فورسز کے درمیان ناقص رابطے کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔
دوسری جانب جنرل سریع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعاء اور نو صوبوں پر 101 فضائی اور میزائل حملے کیے، اور حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک ایسے حملوں کی تعداد 2,489 تک پہنچ چکی ہے۔ جنرل سریع واضح کر چکے ہیں کہ یمنی افواج کی کارروائیاں دفاعی ہیں اور سعودی جارحیت اور محاصرہ ختم ہونے تک جاری رہیں گی۔




