دی وائس آف امہ: یمن کی مسلح افواج (انصار اللہ) نے عدن میں واقع قصر المعاشیق کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں قصر المعاشیق کے اندر سعودی افسران کے زیرِ انتظام جنگی آپریشنز ہیڈکوارٹر اور اس سے منسلک اسلحہ ڈپوؤں کو ہدف بنایا گیا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے جمعرات کو کہا کہ یہ کارروائی سعودی فوجی تعیناتیوں کو جہاں بھی وہ موجود ہوں نشانہ بنانے کی اعلان شدہ پالیسی کا حصہ ہے۔ پریس ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ عدن میں فوجی آپریشنز کے مرکز پر حملہ اس اعلان شدہ مساوات کے تحت کیا گیا جس کے مطابق کسی بھی سعودی فوجی موجودگی کو، جہاں بھی ہو، یمنی افواج کا جائز ہدف سمجھا جاتا ہے۔
قصر المعاشیق حملہ: 5 جاں بحق، 16 زخمی
انادولو کے مطابق عدن میں قائم حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ حملے میں پانچ بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے اور اس وقت حکومت کے کئی ارکان محل کے اندر موجود تھے۔ وزیرِ صحت قاسم بحیبح کے مطابق حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے، جو صدارتی کمپلیکس کے محافظ اور سویلین ملازمین تھے۔ وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ وزیرِ اعظم شائع الزندانی اور حکومتی ارکان محفوظ ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں محل کے اندر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
انادولو کے مطابق جولائی میں فریقین کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ محل پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔ الجزیرہ کے صنعا میں نمائندے یوسف موری نے بھی عدن میں حکومتی ہیڈکوارٹر پر حملوں کو انصار اللہ کی جانب سے "اپنی نوعیت کا پہلا” قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی۔
یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی
الجزیرہ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب صوبہ تعز میں انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تعز پر کنٹرول کسی بھی فریق کو اسٹریٹجک آبنائے باب المندب پر برتری دلا سکتا ہے۔ دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو گزشتہ 11 دنوں میں کم از کم 20 مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جبکہ اتحاد کے بقول ان حملوں میں 17 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
پریس ٹی وی کے مطابق صنعا حکومت نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے اس نے یمن پر تقریباً 12 برس سے جاری "ناانصافی پر مبنی محاصرے” کا جواب قرار دیا۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے مارچ 2015 میں یمن کی ناکہ بندی کرتے ہوئے فوجی کارروائی شروع کی تھی، جسے امریکہ اور کئی مغربی ممالک کی عسکری، سیاسی اور لاجسٹک حمایت حاصل تھی۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز ایرانی حقوق تسلیم ہونے تک بند رہے گی: جنرل حاتمی




