دی وائس آف امہ : مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں اسرائیلی قابضین نے 47 فلسطینی خاندانوں کو 27 روزہ محاصرے کے بعد اتوار کی شام تک اپنے گھر خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ انادولو کے مطابق یہ خاندان طوباس کے جنوب مشرق میں واقع بستی راس الاحمر میں رہتے ہیں، جس کے راستے ہفتوں سے بند ہیں۔
47 فلسطینی خاندانوں کا مستقبل غیر یقینی
فلسطینی انسانی حقوق تنظیم البیدر کے سربراہ حسن ملیحات نے انادولو کو بتایا کہ ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد یہ خاندان غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں، اور الٹی میٹم نے مکینوں میں اپنی زمین اور روزگار کھو دینے کا خوف بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
اسرائیلی فوج نے ستمبر میں راس الاحمر کو آس پاس کے علاقوں سے ملانے والا آخری راستہ بھی بند کر دیا تھا، جبکہ دوسرے کچے راستے پہلے ہی بند کیے جا چکے تھے۔ بستی کے رہائشی ثائر بشارات کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں پابندیاں بڑھتی گئیں اور معاملہ اس وقت انتہا کو پہنچا جب اسرائیلی فورسز نے آخری راستے پر خندق کھود دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بستی خندقوں، دیواروں اور فوجی علاقوں میں گھری ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں : زیتون کی فصل پر حملے: مغربی کنارے میں 9 فلسطینی زخمی
الخلیل میں نوجوان شہید، زیتون کے کاشتکار نشانے پر
المسیرہ نے سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے جمعے کی شام الخلیل کے شمال میں نبی یونس چوراہے کے قریب 32 سالہ شادی احمد ابراہیم عجارمہ کو گولی مار کر شہید کر دیا اور ان کا جسد خاکی اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے۔ انادولو کے مطابق ہفتے کو زیتون کی فصل اتارنے والے کسانوں پر حملوں میں 7 فلسطینیوں کو اغوا اور 3 کو زخمی کیا گیا، جبکہ رام اللہ کے قریب فوٹو جرنلسٹ عصام ریماوی اسرائیلی فوجیوں کی ربڑ کی گولی سے زخمی ہوئے۔
فلسطینی کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک قابض آبادکار مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں 14 ہزار 742 سے زائد حملے کر چکے ہیں، جن میں 66 فلسطینی شہید ہوئے۔
ماخذ: انادولو، المسیرہ، وفا




