مواد پر جائیں

پینٹاگون کا اعتراف: ایران جنگ میں ہلاک امریکی فوجی 21 ہو گئے

دی وائس آف امہ : پینٹاگون کا اعتراف سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ انادولو کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے جمعے کی رات سرکاری اعداد و شمار میں ترمیم کرتے ہوئے دو ایسی اموات بھی شامل کیں جو پہلے شمار نہیں کی گئی تھیں، جبکہ ان کارروائیوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 865 بتائی گئی ہے۔

پینٹاگون کا اعتراف: دو اموات پہلے شمار ہی نہیں ہوئیں

انادولو نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج کے ہلاکتوں کے ریکارڈ میں اب ان کارروائیوں سے منسلک 21 اموات درج ہیں۔ نئی شامل کی گئی اموات میں آرمی نیشنل گارڈ کے 46 سالہ میجر سورفلی ڈیویس شامل ہیں جو 6 مارچ کو کویت میں ہلاک ہوئے، جبکہ بحریہ کے ایک نامعلوم اہلکار نے ستمبر میں خودکشی کی تھی۔

ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ ارکان ایڈم اسمتھ اور کرسی ہولاہان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "اتنی بڑی غلطی کا کوئی جواز نہیں”، اور اعداد درست کرانے کے لیے کانگریس کی مداخلت کو فوج کے لیے شرمندگی قرار دیا۔ پینٹاگون نے نظرثانی شدہ تعداد پر براہِ راست کوئی وضاحت نہیں دی۔

مزید پڑھیں : قالیباف کا روبیو کو جواب: تم ایرانیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکو گے

ٹرمپ کے دعوے، تہران کا جواب

انادولو کے مطابق ٹرمپ نے ٹینیسی میں انتخابی جلسے میں دعویٰ کیا کہ ایران 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے "کچھ اضافی” کر سکتا ہے، تاہم واشنگٹن یہ جنگ "بہت جلد” ختم کر سکتا ہے۔

تسنیم کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں کہ ایران لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو نشانہ بنا سکتا ہے، کہا کہ امریکی حکمران اپنے عوام کو ڈرانے کے لیے آسمان میں ایک خیالی دشمن گھڑتے ہیں، جبکہ اصل خطرہ وہ حکمران طبقہ ہے جس نے دنیا پر ایک غیر قانونی جنگ مسلط کی ہے۔ پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک اس ہفتے کہہ چکے ہیں کہ جنگ کے بعد کے سات ماہ میں ہتھیاروں کی پیداوار ڈھائی گنا بڑھ گئی ہے۔

ماخذ: انادولو، تسنیم نیوز ایجنسی، ارنا، پریس ٹی وی

About The Author