دی وائس آف امہ : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کی تحریک انصار اللہ کے خلاف سعودی حملوں میں امریکی شمولیت کا عندیہ دیا ہے، جبکہ صنعاء نے خبردار کیا ہے کہ حملے میں شریک کسی بھی ملک کو جواب دینے کے بہت سے راستے موجود ہیں۔ انادولو کے مطابق ہفتے کو جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا وہ حملوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا: "ہو سکتا ہے۔ ہم اس کا جائزہ لیں گے… ہم فیصلہ کریں گے، ہم بہت تیزی سے قدم اٹھاتے ہیں۔”
سعودی حملوں میں امریکی شمولیت: ٹرمپ کے ملے جلے اشارے
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے سعودی ہوائی اڈوں پر یمنی جوابی حملوں کو ہولناک قرار دیا، مگر ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ امریکہ اب بھی انصار اللہ سے رابطے میں ہے۔ مداخلت کے ارادے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سعودی اپنا دفاع کر سکتے ہیں، اور بتایا کہ وہ ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کریں گے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن میں انصار اللہ پر حملوں کے ساتھ ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔
یہ بیانات ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کے حملے کے بعد سامنے آئے، جس میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں : دمام ایئرپورٹ کے قریب یمنی میزائل، ریاض حملے میں 12 جاں بحق
صنعاء: جواب کے بہت سے راستے موجود ہیں
تسنیم کے مطابق انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے کہا: "اگر امریکہ، اسرائیل یا کوئی اور ملک ہم پر حملے میں شریک ہوا تو ہمارے پاس جواب دینے کے بہت سے راستے موجود ہیں۔” یمنی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی حکومت کی مدد کرنے والا ہر ملک یمنی عوام کے خلاف اس کے جرائم میں شریک ہے۔
یمنی وزارت صحت کے مطابق 3 ستمبر سے سعودی جارحیت میں شدت کے بعد 91 یمنی شہری شہید اور 168 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 60 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ المسیرہ کے مطابق ہفتے کو تعز میں سعودی بمباری اور گولہ باری سے ایک خاتون اور ایک بچی شہید ہوئیں۔ صنعاء اپنی کارروائیوں کو صنعاء ایئرپورٹ پر حملوں اور ناکہ بندی کا جواب قرار دیتا ہے۔
ماخذ: انادولو، تسنیم نیوز ایجنسی، الجزیرہ، المسیرہ




