دی وائس آف امہ : ترک صدر رجب طیب اردوان کا انتباہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے طاقتور سرمایہ دار، جنہیں انہوں نے "ٹیکنو اولیگارکس” کہا، نوجوانوں کی زندگیوں اور اقدار کو اپنے مفادات اور نظریات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ ترک روزنامہ ڈیلی صباح کے مطابق انہوں نے یہ بات ہفتے کو استنبول میں تعلیمی تنظیم "علم یایمہ جمعیتی” کی 75ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب میں کہی۔
اردوان کا انتباہ: نوجوان بنیادی ہدف
اردوان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی معاشرے کو بدل رہی ہے، اس لیے نوجوانوں کو نسل پرستی، لذت پرستی اور اخلاقی حدود کو نظر انداز کرنے والے نظریات سے بچانا ضروری ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "ٹیکنوفیسٹ نسل ان ٹیکنو اولیگارکس کی تسلط پسند ذہنیت کے خلاف ہماری سب سے بڑی ضمانت ہوگی جو انسان، فطرت، آسمان اور حتیٰ کہ خلا کو بھی جنس بنا دیتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مشترکہ ہدف ایسی نسل تیار کرنا ہے جو انسان مرکز سوچ کے ساتھ ٹیکنالوجی استعمال اور تیار کرے اور اپنی قومی و روحانی اقدار سے جڑی رہے۔ انہوں نے اسکولوں میں حالیہ پریشان کن واقعات کو بھی ان نقصان دہ اثرات کی مثال قرار دیا۔
مزید پڑھیں : ترک عدالت نے نتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا
امام خطیب اسکولوں کی بنیاد
ترک صدر نے بتایا کہ 1951 میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے اپنے قیام کے صرف چھ دن بعد، 17 اکتوبر 1951 کو، ترکیہ کا پہلا امام خطیب اسکول قائم کرنے میں مدد کی، جہاں دینی اور عمومی تعلیم ساتھ دی جاتی ہے، اور بعد میں ملک بھر میں 100 سے زائد ایسے ہائی اسکولوں کی تعمیر میں حصہ لیا۔ اردوان کے مطابق تنظیم اس وقت 192 شاخیں، 153 ہاسٹل اور 122 تعلیمی مراکز چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا: "75 سال پہلے 68 پُرعزم افراد نے جو کام شروع کیا تھا، وہ آج لاکھوں زندگیوں کو چھو رہا ہے۔”
ماخذ: ڈیلی صباح




