مواد پر جائیں

دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج: شاہین باغ سے 250 گرفتار

دی وائس آف امہ : بھارتی دارالحکومت میں ہفتے کو دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔ بھارتی ویب سائٹ دی پرنٹ کے مطابق ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر احتجاج سے قبل تقریباً 3500 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

شاہین باغ اور مسلم طلبہ نشانے پر

مکتوب میڈیا نے انڈین ایکسپریس کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات ایک ہزار سے زائد افراد حراست میں لیے گئے، جن میں تقریباً 250 جنوب مشرقی دہلی خصوصاً شاہین باغ کے علاقوں سے تھے، جو 2020 کے سی اے اے مخالف احتجاج کا مرکز تھا۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سات کارکنوں کو، جن میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونٹ کے جنرل سیکریٹری شامل ہیں، رات ساڑھے بارہ بجے گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں : اقوام متحدہ کا بھارت کو انتباہ: مسلمانوں اور اقلیتوں پر ریاستی مظالم فوری بند کیے جائیں

دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اور محاصرہ

مکتوب کے مطابق حکام نے 45 میٹرو اسٹیشن بند کیے، کم از کم 245 ٹرینیں منسوخ کیں اور وسطی دہلی میں موبائل انٹرنیٹ معطل کر دیا۔ دی پرنٹ کے مطابق ممتا بنرجی، اروند کیجریوال اور پنارائی وجین سمیت کئی سیاسی رہنما، صحافی اور وکلا بھی حراست میں لیے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ احتیاطی حراست 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے برج انیشی ایٹو کے مطابق مودی حکومت پر لاکھوں مسلمانوں کو انتخابی فہرستوں سے نکالنے کا الزام ہے۔ ماہرِ معاشیات ژاں دریز نے کہا کہ حکومت اس لیے خوفزدہ ہے کہ عوام سمجھ جائیں گے کہ ان سے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے۔

ماخذ: دی پرنٹ، مکتوب میڈیا، برج انیشی ایٹو

About The Author