مواد پر جائیں

زیتون کی فصل پر حملے: مغربی کنارے میں 9 فلسطینی زخمی

دی وائس آف امہ : مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل پر حملے ہفتے کے روز بھی جاری رہے، جہاں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں نے فلسطینی کسانوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکا اور کم از کم 9 افراد کو زخمی کر دیا۔ انادولو ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع گاؤں دیر ابو مشعل میں پیش آیا۔

دیر ابو مشعل میں کسانوں پر فائرنگ

فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق اس کی ٹیموں نے 9 زخمیوں کو طبی امداد دی، جن میں ایک شخص کو براہِ راست گولی لگی، دو ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے اور چھ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع نے انادولو کو بتایا کہ کسان زیتون چننے کے لیے اپنی زمینوں کی طرف جا رہے تھے کہ انہیں زبردستی واپس لوٹا دیا گیا۔ فصل کی کوریج کرنے والے انادولو کے فوٹو جرنلسٹ عصام ریماوی کی دائیں پنڈلی میں بھی ربڑ کی گولی لگی۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق رام اللہ کے مشرق میں المغیر گاؤں میں قابض فوج اور آبادکاروں نے محمد حامد ابو عالیہ کے گھر کا گھیراؤ کر کے آنسو گیس کے گولے داغے، جس سے اہلِ خانہ کا دم گھٹنے لگا، جبکہ ایمبولینس کو بھی قریب نہیں آنے دیا گیا۔

مزید پڑھیں : غزہ جنگ بندی کا ایک سال: وعدے ادھورے، قتل و غارت جاری

زیتون کی فصل پر حملے اور قفین میں اغوا

وفا کے مطابق طولکرم کے شمال میں قفین قصبے کے علاقے ظہر العبد میں آبادکاروں نے اسرائیلی فوج کی حفاظت میں کسانوں پر حملہ کیا، زیتون کی فصل اور آلات لوٹ لیے اور تین کسانوں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

فلسطینی دیوار و آبادکاری مزاحمتی کمیشن کے مطابق ہفتے کی صبح سے رام اللہ و البیرہ، نابلس، قلقیلیہ، الخلیل اور اریحا میں آبادکاروں کے کم از کم 12 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں کسانوں کو زمینوں سے نکالنا، مار پیٹ، مرچوں کا اسپرے، املاک کی چوری اور سڑکیں بند کرنا شامل ہے۔

کمیشن کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں مغربی کنارے میں 45 ہزار سے زائد درخت کاٹے یا تباہ کیے گئے، جن میں 26 ہزار سے زیادہ زیتون کے درخت تھے۔ سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی القدس، میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ اسرائیلی آبادکار 194 بستیوں اور 400 چوکیوں میں مقیم ہیں۔

ماخذ: انادولو ایجنسی، وفا

About The Author