دی وائس آف امہ : یمن پر سعودی جارحیت میں ہفتے کے روز مزید شدت آ گئی، جب سعودی جنگی طیاروں نے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر چار فضائی حملے کیے۔ یمنی خبر رساں ادارے سبا کے مطابق سعودی طیاروں نے عمران پر بھی چار حملے کیے اور صعدہ کو نشانہ بنایا۔
حجہ کے دیہات پر کلسٹر بم
یمن کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے صوبہ حجہ کے ضلع عبس میں بنی حطب کے آباد دیہات پر سعودی طیاروں کی جانب سے کلسٹر بم برسانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "مکمل جنگی جرم” قرار دیا ہے۔ سبا کے مطابق کمیشن نے کہا کہ اس علاقے میں کوئی فوجی ہدف موجود نہیں۔ کمیشن نے سعودی حکومت کو اس جرم کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے امریکہ اور یہ ممنوعہ ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک کو شریکِ جرم قرار دیا۔
عین الانسانیہ مرکز برائے حقوق و ترقی نے بھی جمعہ کو صنعاء ایئرپورٹ کی چار عمارتوں اور متعدد فیکٹریوں و شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں نے سینکڑوں خاندانوں کا ذریعہ معاش تباہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں : یمنی فورسز کا جزیرہ میون پر کنٹرول، باب المندب کی صورتِ حال میں اہم تبدیلی
24 گھنٹوں میں 77 حملے، یمن کا جواب
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 77 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں صنعاء، مأرب، صعدہ، الجوف، حجہ، تعز اور عمران میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول کشیدگی کے آغاز سے اب تک ایسے حملوں کی تعداد 1,934 ہو چکی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق یمنی افواج نے "ایئرپورٹ کے بدلے ایئرپورٹ” کے اصول کے تحت جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ المسیرہ کے مطابق ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ اور دمام و ابہا کے ہوائی اڈوں پر پروازیں روک دی گئیں۔ جمعہ کو صنعاء کے میدان السبعین سمیت مختلف صوبوں میں لاکھوں یمنیوں نے ریلیاں نکال کر مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کیا۔
ماخذ: سبا نیوز ایجنسی، تسنیم نیوز ایجنسی




