مواد پر جائیں

غزہ جنگ بندی کا ایک سال: وعدے ادھورے، قتل و غارت جاری

دی وائس آف امہ : غزہ جنگ بندی کا ایک سال ہفتہ 10 اکتوبر کو مکمل ہو گیا، تاہم فلسطینیوں کو ریلیف اور تعمیر نو کے بجائے مسلسل حملوں اور جبری بے دخلی کا سامنا ہے۔ الجزیرہ کے ایک تجزیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس” کی ثالثی میں 10 اکتوبر 2025 کو شروع ہونے والی یہ جنگ بندی اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسرائیل کا قبضہ معاہدے سے زیادہ

الجزیرہ کے مطابق 20 نکاتی منصوبے میں اسرائیلی افواج کو غزہ کے تقریباً 50 فیصد حصے تک پیچھے ہٹنا تھا، مگر اسرائیل اب لگ بھگ 60 فیصد علاقے پر قابض ہے۔ قبضے کی حد بتانے والی "یلو لائن” مزید اندر دھکیل دی گئی ہے، جس سے آبادی مزید سکڑتے علاقے میں محصور ہو گئی ہے۔

غزہ کے انتظام کے لیے علی شعث کی سربراہی میں قائم قومی کمیٹی قاہرہ سے کام کر رہی ہے کیونکہ اسرائیل نے اسے غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ آئی پی سی کے مطابق روزانہ 600 کے بجائے صرف 227 امدادی ٹرک داخل ہو رہے ہیں، اور کم از کم دسمبر تک 14 لاکھ فلسطینی بھوک کا شکار رہیں گے۔

مزید پڑھیں : اقوام متحدہ میں پاکستان کی للکار: غزہ جنگ بندی کے دعوے بے نقاب

"یہ سب منصوبے کے تحت ہو رہا ہے”

دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے محمد المصری نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں "نسلی صفائی” کی وسیع پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ "وہ زندگی اجیرن بنا رہے ہیں، یہ سب منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔” لنکاسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن میبن کے مطابق بورڈ آف پیس "ناکام” ہو چکا ہے اور اس ناکامی نے "نسل کشی کو جاری رہنے دیا”۔

الجزیرہ نے سالگرہ کے موقع پر 100 سے زائد انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں کے اس مشترکہ بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ جنگ بندی "صرف نام کی” ہے۔ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے 1,481 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

ماخذ: الجزیرہ

About The Author