مواد پر جائیں

باطل کو یا دیمک چاٹ جاتی ہے یا زنگ کھا جاتا ہے: امریکی بحری بیڑے کا انجام

باطل کو یا دیمک چاٹ جاتی ہے یا زنگ کھا جاتا ہے: امریکی بحری بیڑے کا انجام

تحریر: حجت الاسلام و المسلمین شیخ یوشع ظفر حیاتی

زنگ زدہ امریکی بحری بیڑہ ابراہام لنکن تھائی لینڈ کے ساحل پر لنگر انداز ہے۔

یہ ایک فرسودہ باطل نظام کی منہ بولی علامت دکھائی دے رہا ہے۔

ایک زنگ زدہ بحری بیڑہ جس کے عملے کے چہروں کی طراوت کو بھی 286 دنوں کے اعصاب تباہ کردینے والے خوف نے بالکل ختم کرکے رکھ دیا ہے۔

ایک ایسا خطرہ جس میں ہر آن یہ ڈر دماغ کو کھائے جارہا تھا کہ کہیں ایرانی افواج کی خودکش بوٹس نہ ٹکرا جائیں اور ہم بن موت ہی اس کھلے سمندر میں غرق ہوکر مچھلیوں کی خوراک نہ بن جائیں۔

لیکن ایران نے ان خودکش بوٹس سے کہیں زیادہ مہلک ہتھیار کا استعمال کیا۔ ان کے دلوں میں خوف کو زندہ رکھ کر انہیں جیتے جی موت دے دی۔

اب اس عملے کا ہر ہر فرد زندگی بھر ان 286 دنوں کو یاد کر کر کے اپنے خوف کا اظہار کرتا رہے گا۔

ایرانی سمندر نے جہاں لوہے کے اس عظیم ٹکرے کو زنگ زدہ کردیا وہیں ایرانی حکمت عملی نے اس کے عملے کے بدن، فکر اور اعصاب کو فرسودہ کردیا ہے۔ دونوں ہی تباہی کے دہانے پر ہیں اور دونوں ہی کی ریکوری بہت مشکل ہے۔

جو بحری بیڑہ خلیج فارس کو فتح کرنے کے زعم میں طبل جنگ بجاتا ہوا پہنچا تھا وہ اب اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ امریکہ واپس بھی نہیں پہنچ پایا اور اسے شمالی تھائی لینڈ کے لائم چابانگ پورٹ پر ہی رکنا پڑ گیا۔

گو اس پوری بندرگاہ کو سیل کرکے اس جھوٹی طاقت کے کھوکھلے عظیم الجثہ بیڑے کی مرمت اور اس کے عملے کی دیکھ بھال کی جارہی ہے لیکن سوشل میڈیا ایسے کلپس سے بھرا ہوا ہے جن میں عام عوام اس بیڑے کی فوٹیج دکھا دکھا کر صاحب بہادر اور اس ناکارہ بیڑے پر تھو تھو کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں : لبنان سے یمن تک: خطے میں بدلتا ہوا اسٹریٹجک منظرنامہ اور مزاحمت کا نیا نقشہ

یہی محاذ مقاومت کی جیت ہے کہ اس نے پوری دنیا کے عوام کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اب بے خوف و خطر باطل طاقتوں پر کھل کر تنقید اور ان کے ظلم پر آواز اٹھانے لگے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔

About The Author