مواد پر جائیں

فرانس میں حجاب پر پابندی کے خلاف انوکھا احتجاج: غیر مسلم شہریوں کی اظہارِ یکجہتی

فرانس میں ایک حیرت انگیز اور جاندار سوشل میڈیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جہاں غیر مسلم خواتین اور مردوں نے مسلم خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سر پر اسکارف پہننا شروع کر دیا ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یہ احتجاجی مہر فرانس کے دائیں بازو کی جماعت ‘نیشنل ریلی’ (RN) کے 2027 کے صدارتی انتخابات کے لیے متنازعہ منصوبوں کا براہ راست جواب ہے۔

نیشنل ریلی کے قانون ساز جین فلپ ٹینگی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو عوامی مقامات پر اسکارف یا حجاب پہننے والی خواتین کو سخت مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں، پارٹی رہنما میرین لے پین نے پارلیمانی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اس عوامی حجاب پابندی کو قومی ریفرنڈم کے ذریعے نافذ کرنے کے اپنے ارادے کا بھی اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں : ایرانی قصبے میں امریکی بمباری: شادی کی تقریب پر حملے میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق

اس امتیازی اقدام کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے وہ تمام مواد تخلیق کرنے والے (کنٹینٹ کریٹرز) جو عام طور پر حجاب نہیں پہنتے، اپنے بالوں کو مختلف اسکارف سے ڈھانپ کر ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ یکجہتی کی یہ بڑھتی ہوئی تحریک مسلم خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھانے اور ملک بھر میں مذہبی آزادی کا دفاع کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔

احتجاج کرنے والے بڑے پیمانے پر یہ پیغام شیئر کر رہے ہیں کہ، "اگر یہ قانون پاس ہوا تو میں بھی اسکارف پہنوں گا/پہنوں گی،” تاکہ 2027 تک اس مجوزہ پابندی کو نافذ کرنا ناممکن بنایا جا سکے. اس وائرل مہم میں مردوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف متحد ہو کر اسکارف باندھنے کے طریقے سکھانے والی ویڈیوز شیئر کی ہیں۔

About The Author