رائٹرز اور نیویارک ٹائمز کی اہم تحقیقاتی رپورٹس میں یہ ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایک امریکی گلائیڈ بم نے ایران کے ساحلی قصبے سیرک (کوہستک) میں شادی کی ایک پرمسرت تقریب کو براہ راست نشانہ بنایا، جس سے خوشیوں کی رات ماتم میں بدل گئی۔ اس تباہ کن حملے کے نتیجے میں ایک معصوم بچے سمیت کم از کم 5 افراد جاں بحق اور 70 دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔
اسلحے کے ماہرین، بشمول ٹریور بال جنہوں نے دھماکے کے بعد کی فوٹیج کا باریک بینی سے تجزیہ کیا، نے تصدیق کی ہے کہ استعمال ہونے والا بارودی مواد امریکی ساختہ تھا۔ دوسری جانب، دو امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس حملے کا ہدف تقریب گاہ سے محض 135 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک مواصلاتی ٹاور کو بنانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز میں غیر قانونی سفر: سمندری سرنگوں سے ٹکرا کر آئل ٹینکر میں آگ
چشم دید گواہوں نے اس المناک واقعے کے ہولناک مناظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ محبت اور جشن کی رات کو انتہائی پرتشدد انداز میں تباہ کر دیا گیا۔ فوٹوگرافروں کے مطابق زخمی بچوں کو فوری طور پر پک اپ ٹرکوں میں ڈال کر اسپتالوں کی طرف لے جانے کے لیے شدید جدوجہد کی گئی۔ ایرانی حکام نے اس اندوہناک قتل عام کو کھلا جنگی جرم قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے، جبکہ ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) نے اس واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ المیہ اس خطے میں چوتھا بڑا شہری نشانہ بننے والا امریکی فضائی حملہ ہے، جو اس سے قبل میناب، لامرد اور قشم کے جزیرے میں پیش آنے والے ہلاکت خیز واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔




