حزب اللہ نے اسرائیلی فوج پر فائبر آپٹک FPV ڈرونز کے ذریعے حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ یہ سستے ڈرونز ($300 سے $400) اسرائیل کے جدید اور مہنگے دفاعی نظام کو مسلسل ناکام بنا رہے ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی ٹینک کے قریب کھڑے تین فوجیوں نے ایک دھیمی سی گونج سنی۔ چند سیکنڈ بعد فائبر آپٹک ڈرون نظر آیا اور دھماکے سے ایک فوجی شہید جبکہ چھ زخمی ہو گئے۔
حزب اللہ کے ڈرونز اب ٹینکوں، بلڈوزروں اور فوجی اہداف کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ڈرونز ریڈیو کنٹرول کے بجائے لمبی فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، اس لیے انہیں جام کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کا اعتراف ہے کہ ان ڈرونز نے Trophy دفاعی نظام کو بھی بائی پاس کر لیا ہے۔ فوجیوں نے بتایا کہ ڈرونز کئی منٹ تک ہوا میں معلق رہ کر بہترین نشانہ تلاش کرتے ہیں۔
حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق یہ ڈرونز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں اور ان کی لاگت بہت کم ہے۔ یہ گوریلا جنگ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں جو اسرائیلی فوج پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا اور فوجی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حزب اللہ کے ڈرون حملوں نے شمالی فلسطین میں فوجیوں اور آباد کاروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ نے اسرائیلی فوج پر سب سے شدید FPV ڈرون حملہ کیا
حزب اللہ کے میڈیا ونگ نے ڈرون فوٹیج جاری کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو خبردار کیا ہے کہ "ہم تمہیں شکار کریں گے”۔
ماہرین کے مطابق یہ کم لاگت والے ڈرونز غیر متوازن جنگ میں توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔