اسرائیلی حملے میں اپنے خاندان کو کھو دینے والا 16 سالہ غزہ کا نوجوان محمد ایاد عزام فٹبال کے ذریعے صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
محمد کہتے ہیں کہ اسرائیلی حملے سے پہلے وہ ایک لاڈلا بچہ تھا۔ اکتوبر 2024 میں جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی جنگی طیارے نے ان کے گھر پر حملہ کیا جس میں ان کے والدین اور دو بڑے بھائی شہید ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ گھر میں بیٹھے تھے کہ اچانک حملہ ہوا اور عمارت ان پر گر گئی۔
محمد کہتے ہیں کہ وہ تقریباً 10 منٹ تک ملبے تلے دبے رہے۔ ان کی دادی نے انہیں ملبے سے نکالا۔ وہ ہسپتال میں ہوش میں آئے تو وینٹی لیٹر پر تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ معجزاتی طور پر بچ گئے۔
اسرائیلی بمباری کی وجہ سے وہ اپنے والدین اور بھائیوں کو قبرستان میں دفن نہیں کر سکے۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے عارضی مقام پر انہیں دفن کیا۔
اچانک محمد پر بڑوں والی ذمہ داری آ گئی۔ اب وہ شمالی غزہ کے شاطی کیمپ میں بے گھروں کے ساتھ رہتے ہیں اور دادی کے لیے آگ جلاتے اور پانی کے بھاری کانٹینر اٹھاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میری زندگی خوشی سے غم میں بدل گئی۔ پہلے میں لاڈلا تھا اب سب کچھ میری ذمہ داری ہے۔
تمام مشکلات کے باوجود محمد کو فٹبال میں ایک سہارا ملا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اسرائیل میں مستقل فوجی اڈہ قائم کرنے پر غور کر رہا ہے
جنگ سے پہلے محمد خدامات جبالیہ فٹبال کلب کے لیے کھیلتے تھے۔ جنگ کے بعد کلب ختم ہو گیا، میدان تباہ ہو گئے اور ان کے کئی ساتھی شہید ہو گئے


