دی وائس آف امہ : قطر کا اقوام متحدہ میں مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کسی انتخاب یا دہرے معیار کے بغیر یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور مشرق وسطیٰ کو ایٹمی اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ قطری مندوبین نے یہ مؤقف جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی پہلی اور چھٹی کمیٹیوں میں پیش کیا۔
ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ
قطری اخبار دی پینسولا کے مطابق اقوام متحدہ میں قطر کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری طلال عبدالعزیز النعمہ نے پہلی کمیٹی کی عمومی بحث میں کہا کہ قطر مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں اور دیگر وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کی کانفرنس کو خصوصی ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے ساتویں اجلاس کی صدارت کرنے والے سلطنت عمان کی حمایت کی، جس کی صدارت نومبر 2026 میں ختم ہوگی، اور کہا کہ قطر آٹھویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اپریل تا مئی 2026 میں ہونے والی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کی گیارہویں جائزہ کانفرنس کسی متفقہ دستاویز کے بغیر ختم ہو گئی، اور پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کے استعمال کے ناقابلِ تنسیخ حق کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں : دوحہ میں ثالثوں اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات مکمل، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
قطر کا اقوام متحدہ میں مطالبہ: قانون سب پر یکساں
گلف ٹائمز کے مطابق قطری مشن کے سیکنڈ سیکرٹری عبدالعزیز السلیطی نے چھٹی کمیٹی سے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کے قواعد کس طرح نافذ کیے جاتے ہیں، اور قانون کی حکمرانی محض ایک خواہش نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج پختہ عہد ہے۔ النعمہ نے مزید کہا کہ قطر کی ترجیح کشیدگی پر قابو پانا اور سفارتی کوششوں کے لیے راہ ہموار کرنا ہے، اور وہ فریقین کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے لیے شراکت داروں سے رابطے جاری رکھے گا۔
ماخذ: دی پینسولا، گلف ٹائمز (بحوالہ قنا)




