مواد پر جائیں

کشمیر ماڈل دہلی میں: محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا سخت ردعمل

دی وائس آف امہ : مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں نے دہلی میں احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کو "کشمیر ماڈل” کی توسیع قرار دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ آج کی دہلی آرٹیکل 370 کے غیر آئینی خاتمے کے بعد کے کشمیر کی "لرزا دینے والی یاد” ہے، جب لوگوں کو گھروں میں بند کیا گیا، انٹرنیٹ کاٹ دیا گیا اور پورا خطہ محاصرے میں تھا۔

کشمیر ماڈل کا الزام

محبوبہ مفتی کے مطابق بی جے پی نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا، اور اب بھی "پہلے احتجاج کچلو، پھر انکار کرو” کی پالیسی دہرائی جا سکتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات لکھا کہ "کشمیر ماڈل دہلی برآمد کر دیا گیا ہے”۔ وسطی دہلی میں جمعہ کی رات 10 بجے سے 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ بند ہے۔ اخبار کے مطابق دونوں رہنما 2019 میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رہ چکے ہیں، اور 5 اگست 2019 کے بعد کشمیر میں 4G سروس فروری 2021 تک مکمل بحال نہیں ہوئی تھی۔

سری نگر میں ووٹ چوری کے خلاف مظاہرے

کشمیر ڈاٹ کام کے مطابق ہفتے کو انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور "ووٹ چوری” کے خلاف وادی بھر میں مارچ کیے۔ سری نگر میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے کارکن ایم اے روڈ پر کانگریس دفتر کے باہر جمع ہوئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو مرکزی سڑک کی طرف بڑھنے نہیں دیا، جس کے بعد وہ پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ ضلعی ہیڈکوارٹرز میں بھی ایسے ہی مظاہرے ہوئے۔

ماخذ: انڈین ایکسپریس، کشمیر ڈاٹ کام

About The Author