دی وائس آف امہ : مصر ملائیشیا تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ہفتے کو انتظامی دارالحکومت پتراجایا میں ملاقات کی، جس میں فلسطین کے منصفانہ حل، خطے میں کشیدگی میں کمی اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مصری صدر ملائیشیا کے سرکاری دورے پر ہیں جس کے بعد وہ انڈونیشیا جائیں گے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد
مصری روزنامہ الاہرام کے مطابق مشترکہ پریس کانفرنس میں السیسی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مشرقی القدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو جبری طور پر بے دخل کرنے، فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی ساخت بدلنے یا انہیں ٹکڑوں میں بانٹنے کی ہر کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا، اور مغربی کنارے و مشرقی القدس میں "تشویشناک پیش رفت”، بستیوں کی توسیع اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر حملوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے غزہ تک انسانی امداد کی مکمل اور پائیدار رسائی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں : غزہ جنگ بندی کا ایک سال: وعدے ادھورے، قتل و غارت جاری
مصر ملائیشیا تعلقات اور الازہر کا کردار
السیسی نے کہا کہ مذہبی مبلغین کی تربیت کے ذریعے اعتدال پسندی کے فروغ پر بھی تفصیلی بات ہوئی، اور مصر جامعہ الازہر میں ملائیشیائی طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انور ابراہیم کے مطابق دونوں ممالک نے خواتین کو بااختیار بنانے، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا۔ مصری ایوانِ صدر کے ترجمان محمد الشناوی کے مطابق ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر توسیعی مذاکرات بھی ہوئے۔ السیسی نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کا تعاون "عالمِ اسلام کے مفادات” کے لیے جاری رہے گا۔
ماخذ: الاہرام آن لائن، مصری ایوانِ صدر




