دی وائس آف امہ : سعودی اتحاد کی یمن میں بڑی کارروائی کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعے کی رات ایکس پر کہا کہ اتحاد انصاراللہ (حوثیوں) کے جنگجوؤں اور فوجی صلاحیتوں کے خلاف "بڑے پیمانے پر آپریشن” کر رہا ہے اور انصاراللہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔
سعودی اتحاد کی یمن میں بڑی کارروائی اور فضائی بمباری
المالکی کے مطابق اتحاد ریاض کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج کو چوبیس گھنٹے فضائی مدد فراہم کر رہا ہے اور انصاراللہ کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو تباہ کرنے پر کام جاری ہے۔ یہ اعلان حکومتی افواج کے "فجرِ یمن” نامی آپریشن کے دوران سامنے آیا، جس کا ہدف دارالحکومت صنعاء سمیت انصاراللہ کے زیر کنٹرول تمام علاقے واپس لینا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اتحادی افواج نے جمعے کو صنعاء پر شدید بمباری کی جس میں ایک بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں : یمن پر سعودی جارحیت: صنعاء ایئرپورٹ پر حملے، حجہ میں کلسٹر بم
ریاض کا سلامتی کونسل سے مطالبہ
اقوام متحدہ میں سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل نے جمعے کو سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاراللہ کے حملے روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے، اور بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات سے خبردار کیا۔ تاہم اسی اجلاس میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے کہا کہ یمن عملاً دوبارہ "مکمل جنگ” میں دھکیل دیا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے تحت اگست سے اب تک کم از کم 46 عام شہری جاں بحق اور 130 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، جبکہ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ستمبر سے اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ماخذ: اناطولیہ، الجزیرہ




