مواد پر جائیں

سعودی عرب کا دعویٰ: مشرقی مغربی پائپ لائن پر حملہ عراق سے ہوا

سعودی وزارت خارجہ نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں مشرقی مغربی پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ ڈرون حملے مبینہ طور پر عراق کی سرزمین سے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ عراقی وزیر اعظم کی درخواست پر وہ فی الحال اس حملے کا کوئی عسکری جواب نہیں دے گا۔ اس اقدام کا مقصد برادر عراقی حکومت کو موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین سے مملکت اور پڑوسی ممالک کے خلاف ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کر سکے۔

مزید پڑھیں : انصار اللہ یمن کا باب المندب اور اہم جزائر پر مکمل کنٹرول

اس حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے جوابی کارروائی روکے جانے کا تعلق ممکنہ طور پر آنے والے ہفتوں میں متوقع عراقی مزاحمتی تحریکوں کو غیر مسلح کرنے کی حکومتی کوششوں کی حمایت سے ہے۔ تاہم سعودی عرب نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، ملکی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

About The Author